دل شکستہ
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - رنجیدہ، آزردہ، افسردہ، مایوس۔ "آج تک میں نے کسی کو اس قدر دل شکستہ اور رنجیدہ نہیں دیکھا۔" ( ١٩٨٢ء، انسانی تماشا، ٣١ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد 'دل' کے ساتھ 'شکستن' مصدر سے حالیہ تمام 'شکستہ' بطور اسم صفت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں سب سے پہلے "خاور نامہ" میں ١٦٤٩ء کو مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - رنجیدہ، آزردہ، افسردہ، مایوس۔ "آج تک میں نے کسی کو اس قدر دل شکستہ اور رنجیدہ نہیں دیکھا۔" ( ١٩٨٢ء، انسانی تماشا، ٣١ )